انور انصاری کے اعزاز میں شعری نشست

کراچی سے تعلق رکھنے والے مشہور پینٹراور خطاط انور انصاری ان دنوں سعودی عرب سے کراچی آئے ہوئے ہیں۔ ان کے اعزاز میں ایک شعری نشست گذشتہ دنوں منعقد ہوئی..More

مہتاب علی

 ...Read More

اطالوی مصورہ

....Read More

طارق ذیشان

...Read More

 

اردو کا مطالعہ دماغی خلل سے بچاتا ہے

Urdu language

رشید گوڈیل کی حالت بتدریج بہتر ہورہی ہے

ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی ریحان ہاشمی نے منگل کی شب بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ ’رشید گوڈیل شوگر اور دل کے مریض تھے۔ ’ان کے دل میں ایک اسٹنٹ پہلے ڈالا جاچکا تھا اور بدھ کو ہی ان کے دل میں مزید دو اسٹنٹ ڈالے جانے تھے کہ ان پر حملہ ہوگیا۔‘ انھوں نے کہا کہ رشید گوڈیل کو اب تک ہوش نہیں آیا ہے اور وہ وینٹی لیٹر پر ہیں۔ مگر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی امید بندھی ہے کہ ان زندہ رہنے کے امکانات نظر آرہے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق سینے میں لگنے والی گولی نے ان کے ایک پھیپھڑے کو نقصان پہنچایا ہے اور اگلے 48گھنٹے ان کی صحتیابی کے سلسلے میں بہت اہم ہیں۔

رشید گوڈیل منگل کی صبح بہادر آباد میں واقع اپنی رہائش گاہ سے نائن زیرو جارہے تھے کہ نیو ٹاؤن کے علاقے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی۔

دوسری جانب لیاقت نیشنل اسپتال کے ترجمان انجم رضوی کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے زخمی رہنما رشید گوڈیل کی طبیعت میں بہتری آرہی ہے۔ترجمان لیاقت نیشنل اسپتال انجم رضوی کا میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہنا تھا کہ رشید گوڈیل خود سے 60 فیصد سانس لے رہے ہیں، وینٹی لیٹر سےآکسیجن دینےکی مقدار مزید کم کردی گئی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز کراچی کے علاقے بہادر آباد میں رشید گوڈیل ایک قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوگئے تھے جبکہ ان کا ڈرائیور اس واقعے میں جاں بحق ہوگیا تھا۔
 

الطاف حسین نے بھارت کو بے غیرت کیوں کہا؟ حقیقت جانئے

یکم اگست دوہزار پندرہ کومتحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے پاکستانی وقت کے مطابق نصف شب کے بعد امریکہ کے شہر ڈیلاس میں ہونے والے ایم کیو ایم امریکہ کے سالانہ کنونشن سے ایک انتہائی اہم خطاب کیا۔ اس خطاب میں انہوں نے جہاں اور بہت سی اہم باتیں کیں وہیں انکے ان جملوں پر پورے ملک میں ایک لا یعنی بحث چھڑ گئی جن میں انہوں کہا تھا کہ ہندوستان بزدل ہے کہ وہ پاکستان میں مہاجروں پر ظلم ہونے دے رہا ہے۔بہت سے ٹی وی چینلز کے اینکرزاور اخبارات کے کالم نویسوں سمیت تجزیہ کاروں، صحافیوں اور کئی سیاسی رہنماؤں نے اس تقریر کو سنتے ہی جناب الطاف حسین کے خلاف محاذ کھول لیا اور تمام اخلاقی اقدار کو پامال کرتے ہوئے اس روز سے آج تک مسلسل ہرزہ سرائی، بدگوئی اور دشنام تراشی میں مشغول ہیں۔ اس بات کو دہرانا بے مقصد ہوگا کہ یہ لوگ بات کو سمجھے تھے یا نا سمجھی میں یہ حرکتیں کررہے ہیں کیونکہ تمام باضمیر اہل وطن اس بات کو گذشتہ کئی ماہ سے ہی نہیں بلکہ تین عشروں سے زائدسے دیکھتے آرہے ہیں کہ متحدہ قومی موومنٹ اور اسکے قائد کے خلاف ملک بھر کی تمام استحصالی قوتیں جن میں پاکستانی ذرائع ابلاغ پیش پیش ہیں ہذیان بکنے اور زہر اگلنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور غلط پراپیگنڈہ کرکےمتحدہ قومی موومنٹ کو، اس کے قائد کو اور اسکے رہنماؤں اور کارکنان کو مطعون کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ان لوگوں کے اس زہریلے پراپیگنڈے سے عوام کو آگاہ رکھا جائے اور اصل حقائق ان کے سامنے لائے جاتے رہیں۔ قائد تحریک کے اس بیان پر واویلا کرنے والوں کو تو کتنے بھی دلائل دیئے جایں لیکن ان پر اثر نہیں ہونے والالیکن جو لوگ اپنی سادہ لوحی میں اس پراپیگنڈے پر یقین کرنے لگتے ہیں ان کیلئے کچھ تاریخی حقائق پیش خدمت ہیں تاکہ وہ جان سکیں کہ ہندوستان اگر کراچی میں ہونے والے ظلم پر خاموش رہتا ہے تووہ کیوں کر بزدل قرار پاتا ہے۔ تقسیم کے بعد پاکستان اور ہندوستان میں فسادات پھوٹ پڑے جن میں لاکھوں بے گناہ مارے گئے۔ ان فسادات کو روکنے کیلئے ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جسے لیاقت نہرو پیکٹ کہا جاتا ہے۔1951میں ہونے والے اس معاہدے کے تحت دونوں نوزائیدہ ریاستیں اس بات کی پابند تھیں کہ وہ اپنی اپنی جغرافیائی حدود میں ہجرت کرکے آنے والے عوام کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ دار ہونگی۔ اس معاہدے کی رو سے پاکستان کو ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے مہاجرین کے جان و مال کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری پوری کرنی چاہئے تھی۔ بالکل اسی طرح ہندوستان کی حکومت کی بھی ذمہ داری تھی کہ وہ پاکستان سے ہجرت کرکے ہندوستان جانے والے لوگوں کی حفاظت کرے ۔ اس معاہدے کی ضرورت اس لئے پیش آئی تھی کہ جو لوگ اپنی سرزمین چھوڑ رہے تھے وہ تاریخ کے جبر کے تحت ایسا کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان میں سے بہت سے وہ تھے جن کے خاندان کے کئی افراد نے ہجرت نہ کرنے کو ترجیح دی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انکے خاندان تقسیم ہوگئے۔ اب یہ کیسے ممکن تھا کہ ہندوستان میں رہنے والے مسلمان کو تکلیف پہنچے اور پاکستان میں رہنے والے رشتہ دار اس کا درد اپنے دل میں محسوس نہ کریں۔ بعینہ یہی صورتحال ان لوگوں کی بھی تھی جو پاکستان سے ہندوستان ہجرت کرگئے تھے اور انکے خاندان بھی اسی طرح تقسیم ہوگئے تھے۔ یہ ایسے جذباتی رشتے ہیں جو سرحدوں کے پابند نہیں ہوتے اورجو لاکھ کوشش سے بھی نہیں توڑے جاسکتے۔ لہذا اس کا اثر سماج پر پڑنا بھی لازمی تھا اور دونوں ممالک کے باہمی تعلقات پر بھی۔ کسی بھی بدامنی کی صورتحال پیدا ہونے پردونوں ممالک کی حکومتوں پر وہاں کے عوام کا دباؤ آنا لازمی تھا جسکی بنا پر یہ معاہدہ ضروری ہوگیا تھا ۔ اس معاہدے کا اطلاق پاکستان اور ہندوستان دونوں ہی ممالک پر ہونا تھا۔ اور اگر پاکستان کی سرزمین سے ہندوستان ہجرت کرجانے والے کو ہندوستان میں کوئی تکلیف ہوتی تو پاکستان کا فرض تھا کہ وہ ہندوستان کو اس سے باز رکھنے کیلئے اقدامات کرتا۔ اسی طرح اگر پاکستان میں ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے کو کوئی تکلیف پہنچتی تو ہندوستان کا فرض تھا کہ وہ پاکستان کو اس سے باز رکھنے کے اقدامات کرتا۔ لہذا اگر پاکستان میں مہاجروں پر ظلم ہورہا ہے اور ہندوستان اس پر خاموش رہتا ہے تو مہاجروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس پر ہندوستان کے خلاف اپنے ردعمل کا اظہار کریں اور ہندوستان کی اس روش پر احتجاج کریں۔ یہی وہ بات ہے جو قائد تحریک الطاف حسین نے ہندوستان سے متعلق اپنے خطاب میں کہی ہے۔ حب الوطنی کے ڈھونگ رچانے والے وہ لوگ جو بھارت میں کروڑوں ڈالرز کے کاروبا رکررہے ہیں اور وہاں کے انتہائی امیر و کبیر خاندانوں میں اپنی اولادوں کے رشتے کررہے ہیں جناب الطاف حسین کے خطاب پر نہ جانے کیوں سیخ پا ہورہے ہیں ۔ اس بیان کا پس منظر اور وہ حالات و واقعات بیان کرنا ضروری ہیں تاکہ اگر کسی کے ذہن میں کوئی ابہام ہے تو وہ دور ہوسکے۔واقعہ یہ ہے کہ جب بھارت میں مسلم اقلیت پر ظلم ہورہا تھا اور مسلم کش فسادات میں مسلمانوں کو ہلاک کیا جارہا تھا ور انکی عزت و املاک پو حملے ہورہے تھے تو و وزیر اعظم پاکستان قائد ملت لیاقت علی خاں نے فوری مداخلت کی ۔ اس کے نتیجے میں مشہور لیاقت نہرو پیکٹ پر دستخط کئے گئے۔وزیر اعظم پاکستان قائدملت لیاقت علی خان تقسیم کے موقع پر ہونے والے فسادات اور تبادلۂ آبادی کے معاملات پر بات چیت کے لئے اپریل 1950ء میں دہلی تشریف لے گئے ۔ 10 اپریل 1950ء کو پنڈت نہرو اور لیاقت علی خان میں سمجھوتہ طے پایا۔ لیاقت نہرو پیکٹ کے متن کی ایک اہم شق یہ تھی "ہندوستان اور پاکستان کی حکومتیں پوری سنجیدگی سے عہد کرتی ہیں کہ دونوں ممالک کی جغرافیائی حدود میں تمام شہریوں کو مذہبی شناخت سے قطع نظر یکساں شہری اور سیاسی حقوق دیے جائیں گے"۔ تاہم تقسیم ہند کو چار سال گزر جانے کے بعد بھی جب ہندوستان میں مسلمانوں کا قتل عام ہوتا رہا تو پاکستان نے ایک نوزائدہ اور کمزور مملکت ہونے کے باوجودہندوستان سے ا س پر شدید احتجاج کیا اور اسے تنبیہ کی کہ وہ ہندو بلوایئوں کو لگا م دے جو ہندوستان میں مسلمانوں کا بے دردی کے ساتھ خون کررہے ہیں ورنہ نتائج کی ذمہ داری خود اس پر ہوگی۔ اس پر بھی جب ہندوستان نے لاپراہی کا مظاہرہ جاری رکھا تو قائد ملت لیاقت علی خاں نے اپنا مشہورِ عالم مکا لہرایا جس کے بعد ہندوستان خوفزدہ ہوگیا اور اس نے اپنے ملک میں ایسے اقدامات کئے جن سے مسلمانوں کا قتل عام رک گیا۔ اگر آج کراچی میں مہاجروں کے بے دریغ قتل عام اور ریاستی سرپرستی میں ہونے والے غیر انسانی ظلم کے خلاف بھارت پاکستان کو لیاقت نہرو معاہدہ یاد دلاتا ہے اورلیاقت علی خاں کے اقدام کا حوالہ دیتا ہے تو ہمارے جغادری اسے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کہیں گے لیکن اس وقت شہید ملت نے اپنا فولادی مکہ لہرا کو بھارت کو جو پیغام دیا تھا اس پر کیا کہیں گے؟ کیا وہ اسے بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت کہیں گے یا اس حقیقت کو تسلیم کریں گے کہ پاکستان نے تقسیم ہند کے وقت ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد کا فرض بہادری اور شجاعت کے ساتھ پورا کیا تھا! ”لیاقت نہروپیکٹ“ کے تحت دونوں حکومتیں اپنے اپنے ملک میں اقلیتوں پر ہونے والےظلم وستم کو روکنے کی پابند تھیں اور دونوں حکومتوں نے اپنے اپنے ملک میں اقلیتوں کے تحفظ کی ذمہ داری قبول کی۔ بدقسمتی سے پاکستان کو لیاقت علی خاں کے بعد کوئی مخلص حکمراں نہ مل سکا جو بھارت میں ہونے والے مسلم کش فسادات پر بھارت کو اپنا فولادی مکہ دکھا کر اس سے باز رکھ سکتا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت میں مسلمانوں پر ظلم ہوتا رہا ، بابری مسجد شہید کردی گئی اور یہاں کے بے غیرت حکمراں اور نام نہاد مذھبی لیڈر خالی خولی لال قلعے پر سبز جھنڈا لہرانے کے خوابوں میں مست اپنی عیاشیوں میں مصروف رہے۔ کیا ہندوستان کے مسلمان پاکستانی حکمرانوں کو بزدل کہیں تو غلط ہوگا؟ آخر یہ حکمراں اور یہ سیاسی و مذھبی جماعتوں کے جھوٹے مکار لیڈر جو ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے کا نعرہ لگاتے ہیں، عافیہ صدیقی کیلئے امریکہ پر چڑھ دوڑنے کے کھوکھلے نعرے لگاتے ہیں ہندوستان میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر خاموش رہتے ہیں؟ کیا ہندوستان میں رہنے والے مسلمان مسلمان نہیں ہیں؟ اسی کا دوسرا رخ بھی ملاحظہ فرمایئں ۔ لیاقت نہرو معاہدے کی ایک شق صراحت کے ساتھ یہ بیان کرتی ہے کہ اگر ہندوستان کے مسلمانوں پر ظلم ہوا تو تم ذمہ دار ہو اور اگر پاکستان کے ہندوؤں پرظلم ہو تو ہم ذمہ دار ہیں۔ آج پاکستان میں نہ صرف ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے مہاجروں پر ستم ڈھایا جا رہا ہے بلکہ پاکستان کو اپنا وطن بنانے اوریہاں رہ جانے والے ہندوؤں پر بھی ظلم ہورہا ہے جنکی خواتین کی آبروریزی کرنے کے بعد انہیں زبردستی مسلمان بنالیا جاتا ہے ، ان سے اپنی دشمنی کا بدلہ لینے کیلئے ان پر مقدس کتابوں اور مقدس ہستیوں کی توہین کے جھوٹے مقدمات بنوا دیئے جاتے ہیں اور ان مقدمات میں انہیں شاذ ونادر ہی انصاف ملتا ہے ورنہ تو زیادہ تر مشتعل ہجوم ہی انہیں انصاف فراہم کردیتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف سلامتی کے مذہب کی بدنامی کا باعث بنا جاتا ہے بلکہ ایسا کرنے والے خود توہین کے مرتکب ہونے کے باوجود صاف ستھرے بچ نکلتے ہیں۔ اگر ان سب کے باوجود بھی ہندوستان ان مظلوموں کیلئے آواز بلند نہیں کرتا تو اسے بے غیرت اور بزدل نہیں کہا جائے تو کیا کہا جائے۔ کیا الطاف حسین نے بھارت کو بے غیرت و بزدل کہہ کر غلط کیا ہے؟
Source: http://lnpact.blogspot.com

تحریک انصاف کے رکن اسمبلی جاوید نسیم پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کی کرپشن بے نقاب کریں گے

 کراچی: پاکستان تحریک انصاف کے باغی رکن خیبرپختونخوا اسمبلی جاوید نسیم نے پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کی کرپشن بے نقاب کرنے کا اعلان کیا ہے۔ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جاوید نسیم نے کہا کہ سینیٹ الیکشن کے بعد وہ تحریک انصاف کے اراکین کی خیبرپختونخوا حکومت میں کرپشن بے نقاب کریں گے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ صوبائی اراکین اسمبلی نے بم پروف گاڑیاں بنا لی ہیں اور دو دو لاکھ روپے کے کرائے پر بنگلوں میں رہتے ہیں،’سینیٹ انتخابات کے بعد ان کی ساری کرپشن بے نقاب کروں گا‘۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اب بھی وہی پٹواری کلچر اور وہی پولیس ہے، پی ٹی آئی چیئرمین کو تبدیلی کے نام پر دھوکا دیا جارہا ہے، اس کھیل میں پشاور اور اسلام آباد میں عمران خان کے اردگرد رہنے والے پارٹی کے لوگ ملوث ہیں

SaffronArt Live Auction: Modern Masters on Paper


This month, SaffronArt is holding the Live Auction: Modern Masters on Paper features 105 significant works on paper by the pioneers of Modern Indian art. Among the lots are a 1959 work by Ram Kumar, a 1957 acrylic on paper rendition of a French village by Raza, a 1957 pen on paper by Souza, and a set of collages from 1954 by Nandalal Bose. The auction will be held at our gallery in Prabhadevi, Mumbai, on December 2, 2014.

Business & Finance

Olympic 2012 Catwalk
London Olympics 2012 athletes’ parade was a fashion parade. Armani, Prada, Ralph Lauren, Stella McCartney - designed the team uniforms. Hermes designed French team. Michelle Obama's dress designed by J. Mendel. Duchess of Cambridge, Kate Middleton, wore pastel blue satin by Christopher

رشید گوڈیل پر حملہ اور پرویز خٹک کا غیر انسانی ردعمل

پی ٹی آئی کے رہنما اور خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلی پرویز خٹک نے ایم کیو ایم کے رشید گوڈیل پر ہونے والے حملے پر جس رد عمل کا اظہار کیا ہے اس سے ایک بار پھر عوام پر تحریک انصاف کی قیادت اور اسکے کارکنان اور ہمدردوں کی پست ذہنیت کا اظہار ہوگیا ہے۔ پرویز خٹک نے ٹویٹر پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے دہشتگردی کے اس واقعے کو ایم کیو ایم کا ڈرامہ قرار دیتے ہوئےاس کی ذمہ داری ایم کیو ایم پر ہی ڈال دی ہے۔ پاکستانی سیاست کی تاریخ میں تحریک انصاف سے بدتر اور لچر جماعت آج تک نہیں دیکھنے میں آئی ہے۔ خود اسکے لیڈر کی زندگی بھی اخلاقی پستی کا شکار رہی اور ظاہر ہے کہ اس کا اثر تو پارٹی پر پڑنا ہی تھا۔ ایک ایسے موقعے پر جب بدترین دشمن بھی اپنے آپ کو اخلاقی حدود کا پابند بناکر اور اپنے اختلافکت بھلا کر اپنے ردعمل کا اظہار کرتا ہے پرویز خٹک نے ایک بہت ڑے منصب پر فائز ہونے کے باوجود نہ تو اپنے اس منصب کا خیال کیا اور نہ ہی اعلی انسانی اقدار کو اپنے قریب پھٹکنے دیا۔ یہ وہی پرویز خٹک ہیں جو دھرنے کے دوران بارش میں بھیگ کر مستی میں آکر کنٹینر پر کھڑے ہوکر ناچتے رہے اور دوسری جانب انکے صوبے میں لوگ بارش اور سیلابکے ہاتھوں اپنی جانیں دیتے رہے۔ تحریک انصاف کے کارکنان بھی اپنے لیڈروں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایسے ہی ٹوییٹ کرتے رہے اور اس ناپاک چواہش کا اظہار کرتے رہے کہ خدانبخواستہ رشید گوڈیل نہ رہیں تو ضمنی الیکشن کا موقع ملے گا اور نہ جانے کس برتے پر یہ سمجھتے رہے کہ وہ یہ انتخابات جیت جایئنگے۔ اللہ تعالی ایسے ظالم، جاہل اور انسانیت کے نام پر دھبوں جیسے رہنماؤں اور کارکنان سے پاکستان کو محفوظ رکھے۔

Now and Upcoming Events

The International Exhibition of Calligraphy' 2015
12th March – 12th April, 2015, the Contemporary Museum of Calligraphy, Moscow

'Determination', solo show of Muhammad Ismail Art Chowk The Gallery presents 'Determination', solo show of Muhammad Ismail 18-30 Nov, 2014, 5:00 pm

The Art of Our Time: Masterpieces from the Guggenheim Collections Guggenheim Museum Bilbao
September 23, 2014–May 3, 2015

7th Edition of India Art Fair NSIC Exhibition Grounds, New Delhi 110020
29th January, 1st February, 2015

Major Miniaturists: modern miniature paintings Unicorn Gallery, D116/1A, Block 4, Clifton, Karachi
20th - 30th November, 2014

Quick Links

London Olympics 2012 athletes’ parade was a fashion parade. Armani, Prada, Ralph Lauren, Stella McCartney - designed the team uniforms. Hermes designed French team. Michelle Obama's dress designed by J. Mendel. Duchess of Cambridge, Kate Middleton, wore pastel blue satin by Christopher

Quick Links

Quick Links

London Olympics 2012 athletes’ parade was a fashion parade. Armani, Prada, Ralph Lauren, Stella McCartney - designed the team uniforms. Hermes designed French team. Michelle Obama's dress designed by J. Mendel. Duchess of Cambridge, Kate Middleton, wore pastel blue satin by Christopher